13 مئی 2026 - 15:54
مآخذ: ابنا
ایران جنگ کی آگ نے وائٹ ہاوس کو جلا ڈالا، 60 فیصد سے زائد امریکی ٹرمپ کے خلاف

امریکہ میں ہونے والے حالیہ قومی سرویز کے مطابق ایران کے خلاف واشنگٹن اور صہیونی رژیم کی جنگی پالیسیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو ان کے صدارتی دور کی کم ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں ہونے والے حالیہ قومی سرویز کے مطابق ایران کے خلاف واشنگٹن اور صہیونی رژیم کی جنگی پالیسیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو ان کے صدارتی دور کی کم ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔ بیشتر امریکی شہریوں نے ایران کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ، معاشی استحکام اور توانائی و خوراک کے بحران کے لیے نقصان دہ بتایا ہے۔

ٹیلی سور کے مطابق، پی بی ایس نیوز، این پی آر اور مارسٹ کے مشترکہ سروے میں 60 فیصد سے زائد امریکیوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی حکمتِ عملی ایک غلط فیصلہ تھا۔ سروے میں شریک افراد کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جارحانہ پالیسیوں نے امریکہ کی بین الاقوامی حیثیت کو کمزور کیا اور توانائی و غذائی تحفظ کے شعبوں میں بے یقینی کو بڑھایا۔

رپورٹ کے مطابق، کیمیائی کھادوں کی سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی غذائی منڈی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ یارا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو سوین تورے ہولستر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترسیل میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو دنیا بھر میں اربوں کھانوں کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی خاندانوں پر بھی شدید معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ سروے میں 80 فیصد سے زائد افراد نے اعتراف کیا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے ان کے گھریلو بجٹ کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔

معاشی صورتحال کے حوالے سے بھی عوامی بے چینی نمایاں رہی۔ 63 فیصد امریکیوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات ان کے حق میں نہیں ہیں جبکہ 56 فیصد نے اپنے رہائشی علاقوں کی اقتصادی حالت کو “کم قابلِ برداشت” یا “انتہائی دشوار” قرار دیا۔

اسی طرح 61 فیصد شرکاء نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوا۔ تاہم سروے کے نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ٹرمپ کو اب بھی اپنے سیاسی حامیوں کے ایک حصے کی حمایت حاصل ہے، جو ان کی سخت گیر پالیسیوں کے حامی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے تازہ سروے کے مطابق بھی صدر ٹرمپ کے خلاف عوامی ناراضی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے چند ماہ قبل ریپبلکن پارٹی کو ایک خراب سیاسی ماحول کا سامنا ہے، جہاں ایران جنگ اور دیگر داخلی مسائل پر عوام کی اکثریت ٹرمپ سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔

فوکل ڈیٹا کے سروے کے مطابق مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت ووٹرز کے سب سے بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ تقریباً 58 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ مہنگائی سے نمٹنے میں صدر کی کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ 55 فیصد نے ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف کو امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

ادھر صدر ٹرمپ نے ان تمام سرویز کو “جعلی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے ایران جنگ کو “چھوٹی جنگ” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوج اور جدید ترین عسکری صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سروے جانبدارانہ سوالات پر مبنی ہیں اور ان کے خلاف رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھایا بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی عوامی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے عالمی رائے عامہ کے سامنے واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسیوں کے کئی پہلو بے نقاب کر دیے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha